۱ میرے محرم

251

قسط اول
امیر حماد نے ہلکے سے دروازے پر دستک دی……
نوشین نے جھمکے اتار کر ٹیبل پر رکھے اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوۓ ٹیکے کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جب دستک کی مانوس سی آواز پر ماتھے کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا……
اور دھڑکن تھم سی گئ….
اس نے بے یقین نظروں سے بند دروازے کو دیکھا…. “نہیں, یہ وہ نہیں ہیں… ”
امیر حماد دیوار پر ہاتھ رکھے, سر کو ہاتھ کی پشت پر ٹکاۓ, کسی ایسے تھکے ہوۓ مسافر کی طرح کھڑے تھے, جو میلوں چلا ہو….. اور منزل,, بے نشان ہو……
دروازہ کھلنے پر انہوں نے دیکھا…. منزل سامنے تھی. مگر, کیا وہ ان کی دسترس میں تھی ؟ … “نہیں… ” انہوں نے نفی میں سر ہلایا….
نوشین فیضان علی شاہ… وہ سامنے سر تا پاسجی سنوری کھڑی تھی… پیلے فراک اور چوڑی دار پاجامے میں… جگمگ کرتے لباس کی چمک چہرے کو خیرہ کرتی ہوئ…. بالوں کا پراندہ کندھے پر ڈالے کسی مہندی کی دلہن کی طرح وہ کھڑی تھی. امیر حماد کی نظریں اس کے ٹیکے سے الجھ کر رہ گئیں…
اور وہ… از حد حیران تھی امیر حماد کو یوں اپنے سامنے … اپنے پاس دیکھ کر.. اس نے ان کے حلیے کو دیکھا. سرخ آنکھیں, بکھرے حلیے کے ساتھ وہ اس امیر حماد سے بہت مختلف لگ رہے تھے جنہیں وہ شروع سے اس حویلی میں دیکھتی آئی تھی… اس نے سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس امیر حماد کے وجیہہ سراپے کو دیکھا, جو آج بہت تھکے تھکے سے لگ رہے تھے. اور ابھی کل کی ہی تو بات تھی. وہ,, ایسے ہی بکھرے حلیے, سرخ آ نکھوں اور آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ ان کی دہلیز پر گئ تھی.. مگر انہوں نے کیا کیا تھا… اس کے بے حال وجود سے نظریں چراتے ہوۓ رخ موڑ لیا تھا… اور کیا بولے… ؟
“جاؤ نوشین فیضان علی شاہ… تمہیں خرم احسان علی شاہ کے سنگ زندگی کی تمام خوشیاں نصیب ہوں.. اور کل خرم احسان علی شاہ کے ساتھ رخصت ہوتے ہوۓ تمہارے دل و دماغ میں کسی امیر حماد کا کوئ نام تک نہ ہو…….. ”
وہ تکلیف کی شدت اور خوف کے غلبے سے کانپ اٹھی تھی… اس وقت وہ اسے سفید شلوار قمیص, کندھے پر چادر ڈالے کسی سخت دل وڈیرے کی طرح لگے….
وہ انہیں کہنا چاہتی تھی…
“امیر حماد میری زندگی سب خوشیاں خرم احسان سے نہیں آ پ سے مشروط ہیں… میں خرم احسان سے نہیں , آ پ سے محبت کرتی ہوں … خرم احسان علی شاہ نہیں, آ پ میری منزل ہیں… میں وہ نوشین فیضان علی شاہ نہیں ہوں جو کبھی خرم احسان علی شاہ کی ہوا کرتی تھی… اس سے وابستہ تھی.. اس کی امانت اور زندگی تھی.. میں وہ نہیں ہوں جو آ ج مجھے بنایا گیا… بابا سائیں اور آ پ نے مل کر جو میری قسمت لکھی ہے.. میں وہ زندگی نہیں جینا چاہتی….. ”
مگر وہ شخص, جسے اس نے چاہا, جس کا ہمیشہ ایک نرم اور مہربان روپ دیکھا, آ ج وہ چہرہے پر ڈھیروں سرد مہری اور رویے میں عجیب سختی لیے بالکل اجنبی بنا کھڑ ا تھا… وہ کہنا چاہتی تھی… ” آ پ کی یہ دعا میرے لیے بد دعا سے بد تر ہے….. ”
مگر وہ کچھ نہیں بولی… خاموشی سے پلٹ گئ.
کہ سامنے کھڑے امیر حماد اس کے لیے بالکل اجنبی تھے. وہ انہیں نہیں جانتی تھی. وہ انہیں بالکل نہیں جانتی تھی….
مگر آ ج…….
وہ کس ٹوٹے بکھرے حلیے میں اس کی دہلیز پر آۓ تھے… تب جب ان کی دعا قبول ہونے جا رہی تھی. جب وہ خرم احسان علی شاہ کی ہونے جا رہی تھی… آ ج وہ خرم احسان علی شاہ کی مہندی کی دلہن بنی تھی. اور رات آ ہستہ آ ہستہ سرک کر کل کی طرف جا رہی تھی جب وہ خرم احسان علی شاہ کی شریک حیات بننے والی تھی…
“امیر حماد ….؟؟” اس نے حیرت و بے یقینی سے انہیں پکارا تو وہ ایکدم چونکے…
وہ ان کو پکار رہی تھی… ان کا نام لے رہی تھی… جلتے وجود میں ٹھنڈک کی لہر سی گزر گئ. وہ وارفتگی سے اسے دیکھے گۓ….
“امیر حماد! .. کچھ کہنا ہے…. ؟”
“میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا نوشین… ایسے ہی سمجھ جاؤ نا… بنا کہے…”وہ عجیب کرب سے بولے
نوشیںن نے سختی سے لب بھینچ لۓ۔
“مجھے خرم احسان کی قسمت میں آپ نے اور بابا سائیں نے مل کر لکھا۔۔۔” اس کا لہجہ پتھریلا تھا۔
انہوں نے نو شین کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ایک سخت سا تاثر تھا۔
“میں۔۔۔ امیر حماد۔۔۔ تم سے بے پناہ محبت کرتا ھوں نوشین ”
ان کا مدھم سا لہجہ۔ نوشین کا دروازے پہ دھرا ہاتھ پھسل کر اسکے پہلو میں آ گرا۔۔۔ اور سانسیں تھم سی گئ….. اس نے محسوس کیا جیسے دل کی دھڑکن بہت مدھم سی…. نا محسوس سی ہو گئ تھی ……. وہ زندگی میں پہلی بار اظہار محبت، اقرار محبت کر رہے تھے۔۔۔ مگر کس موقعے پر۔۔۔
“اپنی محبت کو تو آپ دعاؤں کے ساتھ کسی اور کے سنگ رخصت کر چکے ھیں۔” اس کا لہجہ بھیگا تھا، آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کے گرنے لگے۔
“بابا سائیں کے فیصلے سے۔۔۔ میں روگردانی مر کر بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ تمہیں تو پتا ہے نا کہ مجھے ان سے کتنی محبت ھے۔۔۔” ان کا لہجہ کتنا بے بس تھا۔
” مجھے ان کا فیصلہ ماننا ہی تھا۔۔۔ یہ بابا سائیں کے اکلوتے بیٹے کی زندگی کا معاملہ تھا۔۔۔ مجھے یہ سب اپنے ہی ہاتھوں کروانا تھا ہر صورت۔۔۔”
“کل تمہیں حتمی فیصلہ سناتے ہوئے میں نے سوچا تھا نو شین کہ میں خود پر ، اپنے جذبات پر ، اپنی محبت پر بے حسی کا ایک خول چڑھا لوں گا اور ساری عمر اس محبت کو اپنی کمزوری نہیں بننے دوں گا۔ مگر آج ۔۔۔ بے حسی کے اس خول میں دراڑیں پڑتی گئیں اور اب۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ آج کی رات میں کمزور بن جاؤں اور محبت طاقتور۔۔۔ صرف آج کی رات محبت میری کمزوری بن جائے۔ چلو آج جو وقت بچا ہے اسے ایک ساتھ گزارتے ہیں، کل تم خرم احسان کی ہو جانا اور میں پھر سے اپنے خول میں بند ہو جاؤں گا۔۔۔ ”
اور نو شین۔۔۔ اس نے شدت کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر موتیوں کی صورت بکھرنے لگے۔
“نہیں۔۔۔ آج نہ تم روؤں گی نہ میں۔۔ ویسے ہی ہنستے ہوۓ وقت گزاریں گے جیسے سائیں شاہ کے باغات اور نہر کے کنارے۔۔۔ ہنستے تھے، مسکراتے تھے، ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے۔۔۔”امیر حماد نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔ مگر اس کے وجود میں جنبش نہ ہوئ۔
انہوں نے ایک قدم آگے بڑھا کر اس کی گجرے سے سجی کلائی پکڑی اور سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھاۓ۔——————–
جاری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here