ایک تھی فاطمہ

277

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس کی شادی لندن میں ہوئ ۔ دوسروے ممالک کا نام سن کر رشتہ کرنے کے بعد بعد بیٹیوں پہ کیا بیتتی ہے اس پہ مبنی ایک سچی سبق آموز داستان ۔
بس میں نے فیصلہ کر لیا اگر فاطمہ کی شادی ہوگی تو وقار سے ہوگی ۔ اُس میں خرابی بھی کیا ہے ایک تو وہ اس کا کزن ہے اور دوسرا میری بہن کا بیٹا ہے ۔ میں نے ہاں کردی ہے اب کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے ۔
اچھا ٹھیک ہے لیکن میں بھی تو اس کی امی ہوں میرا بھی تو حق ہے کچھ ۔ آپ ایسا کرو کہ ایک دفعہ فاطمہ سے پوچھ لو کہ وہ اس رشتے سے راضی ہے ۔ ہماری شریعت بھی یہی کہتی ہے کہ بیٹی سے اس کی رضامندی پوچھنی چاہیئے ۔ وہ دھیرے سے بولی ۔
سنو ! فاطمہ کی امی مجھے اپنی بیٹی کا پتا ہے وہ میرے سامنے نہیں بولے گی اسلیئے اس سے پوچھنا یا نا پوچھنا ایک ہی بات ہے ۔ دوسرا میں دو دن کے بعد مگنی کردوں گا اس کی ۔
تم بس تیاریاں شروع کردو ۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے.
وہ وہاں سے اٹھی اور فاطمہ کے کمرے میں چلی گئ اور بولی !
فاطمہ ادھر آئو میرے ساتھ بیٹھو ۔ وہ چپ چاپ اٹھی اور آکر ساتھ ےیٹھ گئ ۔
پھر اس نے بولنا شروع کیا کہ بیٹی ایک بات بتائو تمہاری زندگی میں کوئ لڑکا تو نہیں ہے جس کو تم پسند کرتی ہو ؟ کیوں کہ تمہارے پاپا ۔ دو دن کے بعد تمہاری مگنی وقار سے کر رہے ہیں اگر تم کو کوئ اعتراض نا ہو تو بتا دو ۔ اب وقت ہے میں تمہاراساتھ دوں گی بولو ۔
وہ چپ چاپ اپنی امی کی باتیں سن رہی تھی وہ بولی
آج تک میں نے کسی لڑکے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا ۔ پاپا جہاں میری مگنی اور شادی کرنا چاہیں میں انکار نہیں کروں گی ۔
جب اس نے اپنی بیٹی کا جواب سنا تو وہ مطمئن ہوگئ ۔
ٹھیک دو دن کے بعد فاطمہ کی مگنی وقار سے ہوگئ ۔
فاطمہ بہت خوش تھی لیکن وقار بہت غصہ تھا اس نے پہلے ہی اپنی امی کو کہہ دیا تھا کہ وہ اس سے مگنی کرنا نہیں چاہتا ہے کیونکہ وہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن چپ اس نے وجہ نہیں بتائ تھی لیکن اندر اندر سے سوچ رہا تھا کہ کسی طرح اس کی مگنی ٹوٹ جائے ۔ اسی طرح کب ایک سال گزر گیا پتا نا چلا لیکن اس نے آہستہ آہستہ اپنی امی کے کان بھرنا شروع کر دیئے کہ فاطمہ کا کردار درست نہیں ہے ۔ اس کے بارے میں لڑکے باتیں کرتے ہیں ۔ ایک نے تو یہ بھی کہا کہ کوئ پاگل ہی ہوگا جو اس سے شادی کرے گا وغیرہ وغیرہ ۔
ایک دن کوئ بات ہوئ جب فاطمہ کے ابو نے کہا کہ اس کی پھپو کو کہ دیکھو بہن میری بیٹی ایک ہیرا ہے ۔ جہاں جائے گی وہاں اندھیرے میں چمکے گی ۔
اور ہنس کر بولے یہ تو میرا احسان سمجھو کہ فاطمہ کی مگنی وقار سے کی ۔
یہ سننے کی دیر تھی وہ بولی بھائ تم نے میرے ساتھ غلط بیانی کی تمہاری بیٹی تو پورے محلے میں مشہور ہے اس کے تو چکر کتنوں کے ساتھ ہیں ۔ میرا دل تو نہیں چاہتا کہ فاطمہ سے وقار کی شادی کروں لیکن تمہارا منہ دیکھ کر چپ کر جاتی ہوں ۔
جب فاطمہ کے ابو نے یہ سنا تو غصے سے پاگل ہوگئے وہاں سے چپ چاپ اٹھے اور مگنی توڑ آئے ۔
جیسے وہ گھر پہنچے انہوں نے فاطمہ کو بلا لیا جو منہ میں آیا کہتے گئے وہ چپ چاپ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی ۔ بس اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ اسکو کیوں سزا مل رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں کچھ ۔
اسی طرح کئ مہینے گزر گئے اس کا کالج جانا بند کر دیا وہ خالی گریجویٹ رہ گئ ۔
اسی دوران ایک رشتہ اس کے گھر آگیا ۔ جب اس کے پاپا کو پتا چلا کہ لڑکا طلاق یافتہ ہے لیکن رہتا لندن میں ہے تو اس کے والد نے چپ چاپ ہاں کردی ۔ بس ان کے ذہن میں یہی تھا کہ فاطمہ سے اور کوئ شادی نہیں کرے گا چلو جان چڑوا لی جائے وہاں جا کر خوش رہے گی ۔
وہ ویسے بھی اس سے بات نہیں کرتے تھے اسکو ہی تمام قصور وار سمجھتے تھے ۔
خیر فاطمہ کی شادی ہوگئ اور اس کے بعد وہ دونوں لندن چلے گئے ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کو لگتا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔ لیکن اس کی غلط فہمی تھی ۔ جب دکھ کسی گھر کا رستہ دیکھ لیں نا تو جانے میں بہت وقت لگاتے ہیں اور کہیں تو پوری عمر کاروگ بن جاتے ہیں ۔
شادی کے تین مہینے تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد اس کا شوہر بولا کہ اب اپنے گھر چلتے ہیں یہاں کا کرایہ بہت زیادہ ہے ۔
اس نے جب یہ سنا تو بولی یہ اپنا گھر نہیں ہے کیا ؟ تو وہ بولا کہ اپنا گھر Blackburn Town میں ہے ۔ میں وہیں جاب کرتا ہوں ایک دوست کی فرم میں ۔ خیر وہ چپ ہوگئ ۔جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں گئ تو وہ علاقہ لندن سے 8 گھنٹے کی دوری پہ تھا ۔ مطلب لندن کا نام لینے والا شخص لندن میں نہیں رہتا تھا ۔
پھر وہ سوچنے لگی کہ جیسا بھی ہے میرا شوہر تو میرے ساتھ ہے نا ۔ پھر جب وہ وہاں پہنچی تو اس کے ایک بہت بڑا دھچکہ لگا ۔ اس کے شوہر نے جس کو طلاق دی تھی وہ اس گھر میں موجود تھی ۔ پھر پتا چلا کہ اس نے طلاق دینے کے بعد دوبارہ اس سے شادی کر لی تھی کیونکہ اس کو گرین کارڈ اس کی وجہ سے ملا تھا ۔
فاطمہ چپ چاپ روئے جارہی تھی ۔ سوچ رہی تھی کہ اپنے گھر فون کرکے بتا دے لیکن وہ چپ ہوگئ ۔ کیونکہ اس کے والد نے کہا تھا کہ میرے لیئے تم مر چکی ہو ۔ اب رہنا تو وہیں رہنا پہلے تم نے میری عزت کو چار چاند لگائے ہیں ۔
پھر لیکن کچھ دنوں کے بعد اس کے شوہر کی پہلی بیوی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ یہ میرے گھر میں نہیں رہے گی اسکا انتظام کرو ۔ جب وہ جاب پہ گیا تو اس نے پیچھے سے فاطمہ کو گھر کے باہر نکال دیا وہ بے یارو مددگار رو رہی تھی ۔ سوچ رہی تھی کہ کہاں جائے کیونکہ یہ پاکستان تو نہیں تھا اور نا ہی کوئ اسکا واقف کار تھا ۔
اس نے اپنے شوہر کو کال کی تو اس نے کہا کہ میراانتظار کرو ۔ وہ شام کو واپس آیا فاطمہ ایک طرف پردے میں فٹ پاتھ پہ بیٹھی ہوئ تھی ۔ اور وہاں کے انگریز اس کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے کچھ نے تو اسکو غریب سمجھ کر پیسے دینے چاہے لیکن اس نے نہیں لیئے ۔پھر اس کے شوہر نے اسکو وہاں سے اٹھایا اور راستے میں بتایا کہ میں نے ایک اور بھی شادی کی ہوئ ہے چھپ کر اور اب تم اس کے ساتھ رہوں گی ۔ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کی تیسری بیوی نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اسکا جہاں چاہے بندوبست کرو۔
فاطمہ پہ غموں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔ وہ بس روئے جارہی تھی ۔
پھر اس کے شوہر نے اپنے ایک دوست کو کال کی کہ وہ ایک دن کے لیئے فاطمہ کو اپنے گھر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ٹھہرا لے ۔ وہ مان گیا ۔
اگلے دن اس نے ایک کرایہ کا گھر کا انتظام کیا اور کہا کہ یہاں رہنا ہے تو خود کما کر کھائو ۔
فاطمہ بولی کہ میں خالی BA ہوں نا مجھ میں کوئ ہنر ہے ۔ کیا کروں گی ۔ میں نے آپ کی شادیوں پہ اعتراض نہیں کیا لیکن ان میں عدل و انصاف تو کریں جب آپ انصاف نہیں کرسکتے تو مجھ سے کیوں شادی کی ۔ تو اس نے کہا کہ مجھے اولاد چاہیئے تھی اب لگتا ہے مجھ میں ہی کوئ کمی ہے ۔
تو وہ بولا تم کو انصاف چاہیئے جائو جس عدالت میں جانا ہے چلی جائو ۔ اور اس کا سامان اور کچھ پیسے سے کر چلا گیا۔
وہ کچھ کر بھی کیا سکتی تھی اگر کسی کورٹ میں جاتی تو کیا کہتی اسکو پاکستان بھیج دیتے اور اس کے ابو کو یقین ہوجاتا کہ اس کی ہی بیٹی بدکردار ہے.
وہ سوچ رہی تھی کہ کس کس کو کہوں گی کہ میرا قصور نہیں ہے ۔
پھر پھر دو تین اس کے شوہر نے اسکو خرچہ دیا لیکن اسکو سمجھ آگئ تھی کہ اس کو ہی کچھ کرنا ہوگا ۔ اس نے بہت سی جگہ جاب کی ٹرائ کی لیکن پردہ کرنے کی وجہ سے جاب نا ملی ۔
آخر کار اس نے وہاں کچھ پاکستانی فیملیز کے کپڑے سینا شروع کر دیئے کیونکہ وہ تھوڑا بہت سینا جانتی تھی ۔ پانچ سال کی محنت کے بعد اس نے وہیں ایک دوکان بنالی ۔ اور اپنے گھر میں ایک لفظ نا بتایا کہ اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے اس کے سب گھر والے اب تک یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی بیٹی سب سے سکھی ہے ۔ وہ بس انتظار میں ہے کہ کب ایک ہے فاطمہ سے ایک تھی فاطمہ ہوجائے ۔
ہم سب باہر ممالک میں رہنے والوں کا صرف نام دیکھتے ہیں ۔ اور بیٹی کی اس کے ساتھ شادی کر دیتے ہیں ۔ وہاں جاکر چاہے وہ شخص اسکو جسم فروشی پہ یا کچھ بھی کرنے پہ مجبور کرے ۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا کیوں ہم تو بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک کی نہیں بہت سی بیٹیوں کی کہانی ہے ۔ پلیز لندن کا یا کسی اور ملک کا نام سن کر بیٹی کی شادی نا کر دیا کریں ۔ کیونکہ جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ۔.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here